
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کے نائب کمانڈروں اسماعیل شیرازی اور احد وہبی کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا، تاہم صیہونی حکومت نے اعلان کیا کہ دونوں کمانڈر اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔
اسرائیلی فورسز نے کہا کہ انہوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں گروپ کی چین آف کمانڈ کو تباہ کرنے کے بعد مجموعی طور پر 8000 حماس عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔
اسرائیلی فورسز نے خان یونس میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا اور فلسطینی ہلال احمر اسپتال کے قریب بھی شدید گولہ باری کی جس سے اسپتال کے قریب ایک فلسطینی ہلاک اور ڈرون حملہ کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب صہیونی جارحیت کے خلاف حماس کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ غزہ کی پٹی میں حماس کی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل روئی یوچائی یوسف فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ اسرائیلی فوج نے فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
غزہ میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے حماس مزاحمت کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 510 تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر 62 راکٹ داغے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ لبنان سے اسرائیل پر داغے گئے زیادہ تر راکٹ مار گرائے گئے۔
دوسری جانب امریکا اور فرانس کی جانب سے بھی لبنان اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کی کوششوں میں تیزی لائی گئی تاہم حزب اللہ نے غزہ جنگ کے خاتمے تک کسی بھی قسم کے مذاکرات کا واضح جواب دیا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار 925 سے تجاوز کر گئی ہے اور 57 ہزار 910 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق فلسطینی شہداء میں 9,600 سے زائد بچے اور 6,750 سے زائد خواتین شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں 8,663 بچے اور 6,327 سے زائد خواتین شامل ہیں۔