
لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے کہا ہےکہ جب ایک سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں ملک احمد خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کا سائفر کیس پر شاندار فیصلہ ہے، سائفرکیس پر فیصلہ سنا تو ذہن میں آیا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، سائفر کو جواز بنا کر ایک دوست ملک کے سرکاری حکام پر الزام لگایا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی سائفر معاملے پر گھسیٹا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو بند لفافے سے بہت رغبت ہے، بند لفافے میں چاہے 190 ملین پاؤنڈ ہو یا بند لفافے سے قومی اسمبلی توڑ دیں، قاسم سوری نے سربمہر لفافہ لہرایا۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جب ایک سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا، الیکشن کمیشن آپ کے انٹرا پارٹی الیکشن پر معترض ہوا، کمیشن کے جائز سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ 9 مئی سانحہ بانی پی ٹی آئی نے دانستہ کیا، کیا لیول پلینگ فیلڈ کے لیے آئین و قانون کی خلاف ورزی کو ساتھ ملا دیں گے، ایک شخص نے کوئی واقعہ کیا تو کیا تحقیقات مکمل کیے بغیر اسے چھوڑ دیں گے، 2018 میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملااور 4 سال پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے رہے۔