
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ کسی عدالتی فیصلوں کو سیاست سے نہیں جوڑیں گے لیکن آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ قومی راز سینے میں دفن ہونے چاہئیں۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بیانیے اور سازش میں فرق ہوتا ہے۔ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے بانی اور اس کے گروپ نے فوج کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا کر پاکستان سے غداری کی، پی ٹی آئی کے بانی نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ترقی کی راہیں تباہ کر دیں۔
سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ اگر پارٹی کو انتخابات میں اکثریت نہ ملی تو مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور معاشی مذاکرات وقت کی ضرورت ہے، الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوں گے اور پارلیمنٹ کو پانچ سال چلنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ جب بھارت نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کیا تو سب نے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کیا، پی ٹی آئی کے بانی نہیں آئے۔ جنرل باجوہ جھنجھلا کر واپس آئے اور ان کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
اس سے قبل انہوں نے لاہور کے حلقہ این اے 127 میں جلسے سے بھی خطاب کیا جہاں انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو اور پی ٹی آئی کے بانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔