پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح تین سالہ بانڈز کی ییلڈ 11.05 فیصد، پانچ سالہ کی 11.39 فیصد، اور دس سالہ کی 12.2 فیصد ہو گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، منافع کے بعد استحکام
جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروبار کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ KSE-100 انڈیکس ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد معمولی منفی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک منافع سمیٹا، جس کے باعث مارکیٹ کا اختتام مستحکم رہا۔
🔷 ریکارڈ ہائی کے بعد منافع کی بکنگ
مارکیٹ میں دن کے دوران KSE-100 انڈیکس 140,585 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جو 1.38 فیصد یا 1,919 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ کم ترین سطح 138,343 پوائنٹس رہی، جہاں 0.23 فیصد یعنی 321 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اختتام پر انڈیکس 68 پوائنٹس کی معمولی کمی کے ساتھ 138,597 پوائنٹس پر بند ہوا۔
🔷 سرمایہ کاروں کا پرجوش رویہ اور نتائج کی توقعات
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق، “مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی وجہ سے تیزی کا رجحان برقرار رہے گا، تاہم وقفے وقفے سے منافع کی بکنگ بھی متوقع ہے۔”
اسی طرح، عارف حبیب کموڈیٹیز کے CEO احسن مہنتی نے کہا کہ “کم افراطِ زر اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں پر ٹریڈ کر رہی ہے۔”
🔷 مالیاتی پالیسی میں نرمی کی امیدیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی آخری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔
🔷 زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں اس کے ذخائر 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.526 ارب ڈالر ہو گئے، جو کہ IMF کے مقرر کردہ 13.9 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 72 ملین ڈالر کم ہو کر 19.957 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم SBP ذخائر میں اضافہ قابلِ ذکر رہا۔
🔷 PIBs نیلامی میں کامیابی اور شرح منافع میں کمی
حکومت نے مقررہ ہدف 300 ارب روپے کے مقابلے میں 342 ارب روپے PIBs کی نیلامی سے اکٹھے کیے۔ تمام مدتوں کی بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جس سے شرح سود میں نرمی کی امیدیں مزید مضبوط ہوئیں۔ دو سالہ بانڈز کی کٹ آف ییلڈ 54 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.848 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح