
موسلادھار بارشوں سے ملک کا نظامِ زندگی درہم برہم
پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جبکہ شدید بارشوں کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ مختلف حادثات میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں طغیانی کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔
بلوچستان میں بارش کی تباہ کاریاں
بلوچستان کے ضلع خضدار میں شدید بارش کے دوران مختلف حادثات پیش آئے جن میں 3 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ادھر نصیر آباد، بارکھان اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
پنجاب میں بارش، آندھی اور طوفانی صورتحال
پنجاب بھر میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں آندھی اور طوفانی بارش کے باعث کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں شدید بارش کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ زندہ پیر کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوعمر لڑکا جان کی بازی ہار گیا۔
لاہور، فیصل آباد، میاں چنوں اور کمالیہ سمیت کئی شہروں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ گجرات میں نشیبی علاقوں میں پانی دکانوں اور گھروں میں داخل ہوگیا، جبکہ بارش کی شدت کے باعث گیپکو کے درجنوں فیڈرز ٹرپ کرگئے، جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش
سندھ کے مختلف شہروں خصوصاً لاڑکانہ میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی۔ بارش کے فوری بعد نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے اور شہر بھر میں بجلی کا نظام مکمل طور پر بند ہوگیا۔ عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی اور شہریوں کے لیے ہدایات
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ آئندہ چند دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ ممکنہ طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور برساتی ندی نالوں سے دور رہیں۔