المناک حادثہ: 69 قیمتی جانیں ضائع
مراکش کے ساحل پر 19 دسمبر کو پیش آنے والے المناک کشتی حادثے نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تقریباً 80 افراد پر مشتمل ایک کشتی، جو بہتر مواقع کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر پر روانہ ہوئی تھی، سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئی۔ حادثے کے نتیجے میں 69 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے، جن میں مالی کے 25 شہری بھی شامل تھے۔ حادثے میں صرف 11 افراد کو زندہ بچایا جا سکا، جو اس سفر کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
غیر محفوظ سفر اور اس کے اثرات
یہ کشتی حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر قانونی اور خطرناک سفر کتنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کشتی میں موجود بیشتر افراد کا تعلق مالی کے مغربی علاقے کائیس سے تھا، جہاں سے وہ موریطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ موریطانیہ میں یہ افراد تعمیراتی صنعت میں کام کرتے تھے اور بہتر مواقع کی تلاش میں یورپ کا رخ کر رہے تھے۔
یورپ جانے کی خواہش
یورپ میں موجود اپنے جاننے والوں اور دوستوں سے بات چیت کے بعد، متاثرین نے اس پرخطر سفر کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے کچھ افراد نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر ہی یہ قدم اٹھایا۔ بدقسمتی سے، یہ فیصلے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔
حکومتی اقدامات اور ردعمل
بیرون ملک مالی شہریوں کی وزارت نے حادثے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے کرائسس یونٹ قائم کیا ہے۔ اس یونٹ کا مقصد متاثرین کے اہل خانہ کی مدد کرنا اور حادثے کے حوالے سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ہے۔ وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
مقامی ردعمل
کائیس کے علاقے میں اس حادثے نے غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرین کے اہل خانہ نہ صرف اپنے پیاروں کے نقصان پر سوگ منا رہے ہیں بلکہ اس بات پر بھی افسوس کر رہے ہیں کہ بہتر زندگی کی تلاش انہیں موت کے دہانے پر لے گئی۔
غیر قانونی ہجرت کا بڑھتا ہوا رجحان
غیر قانونی ہجرت ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں معاشی حالات غیر مستحکم ہیں۔ مالی جیسے ممالک میں بے روزگاری اور غربت نوجوانوں کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ خطرناک راستے اپنائیں۔
انسانی اسمگلنگ کا کردار
رپورٹس کے مطابق، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک ان غیر قانونی سفر کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ انہیں محفوظ طریقے سے یورپ پہنچا سکتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے