بھارت نے ’’را‘‘ کا سربراہ تبدیل کر دیا: پاکستان سے کشیدگی کے بعد خفیہ پالیسی میں بڑی تبدیلی

راوی سنہا کی جگہ پراگ جین کی تقرری، نئی حکمت عملی کا آغاز

نئی دہلی:
پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی اور خفیہ محاذ پر کارکردگی سے متعلق تنقید کے بعد بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسی ’’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘‘ (را) کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ راوی سنہا کی مدت مکمل ہونے پر انہیں توسیع نہیں دی گئی، اور ان کی جگہ پراگ جین کو نئی قیادت سونپ دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ بھارت کی خفیہ پالیسی میں ایک بڑی اور اسٹریٹجک تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں سلامتی کے معاملات دوبارہ شدید توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔


راوی سنہا کو توسیع کیوں نہ ملی؟

ذرائع کے مطابق راوی سنہا کی مدت میں توسیع نہ دینا محض معمولی تقرری تبدیلی نہیں بلکہ بھارت کی سلامتی اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان سے وابستہ حساس آپریشنز میں ’’را‘‘ کی کارکردگی پر گزشتہ کچھ عرصے میں تنقیدی نگاہ ڈالی جا رہی تھی، خاص طور پر ایسی رپورٹس کے بعد جن میں پاکستان نے بھارتی جاسوس نیٹ ورکس کی کامیابی سے نشاندہی اور ناکامی کا دعویٰ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ حکومتی چہرہ بچانے کی کوشش بھی ہے تاکہ عوامی دباؤ اور میڈیا کی تنقید سے بچا جا سکے۔


پراگ جین: کون ہیں اور ان کی توجہ کہاں مرکوز رہی؟

نئے مقرر ہونے والے سربراہ پراگ جین ایک تجربہ کار افسر ہیں جن کا پس منظر پاکستان پر مرکوز خفیہ آپریشنز سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اب اپنی خفیہ حکمت عملی کو دوبارہ علاقائی سطح پر ترتیب دینا چاہتا ہے۔

پراگ جین نے مختلف مواقع پر سرحدی اور کاؤنٹر انٹیلیجنس آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کی مہارت جنوبی ایشیا کے جیوپولیٹیکل چیلنجز میں راہنمائی فراہم کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔


’’را‘‘ میں تبدیلی: نئی حکمت عملی یا صرف ردعمل؟

خفیہ ایجنسی کی سربراہی میں یہ تبدیلی عام تبدیلی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بھارت کی جانب سے را کی قیادت بدلنا ایک بڑی اسٹریٹجک شفٹ کی نشاندہی کر رہا ہے، جہاں عالمی امور کی بجائے اب علاقائی سلامتی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ:

“یہ تقرری نہ صرف داخلی سلامتی کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے بلکہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتے چیلنجز کے جواب میں را کی سمت ازسرنو طے کی جا رہی ہے۔”


خطے پر اثرات

پراگ جین کی تقرری خطے کے لیے خاصی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے کیونکہ:

بھارت کی پالیسی اب جارحانہ خفیہ اقدامات کی طرف جھکتی دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی میں را کا کردار مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔

علاقائی قوتوں میں خفیہ جنگوں اور نیٹ ورکز کی لڑائی شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top