گوادر کا نیا بین الاقوامی ائیرپورٹ: پاکستان اور چین کی دوستی کی نمایاں مثال
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر کے نئے بین الاقوامی ائیرپورٹ کو پاکستان اور چین کی عظیم دوستی کی روشن علامت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ائیرپورٹ بین الاقوامی معیار کی جدید سہولیات سے لیس ہے اور علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے فوائد
اجلاس میں وزیراعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کے لیے چین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف گوادر بلکہ پورے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی۔ ائیرپورٹ کو بین الاقوامی ٹرانزٹ ہب بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جارہی ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔
ائیرپورٹ کی خصوصیات
ملک کا سب سے بڑا ائیرپورٹ: رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ائیرپورٹ۔
بڑی پروازوں کی گنجائش: A380 طیارے ہینڈل کرنے کی صلاحیت۔
مسافروں کی گنجائش: سالانہ 40 لاکھ مسافروں کے سفر کی سہولت۔
بہتر فلائٹ آپریشنز: کراچی-گوادر فلائٹ آپریشن کو ہفتے میں تین بار کیا جائے گا۔
بین الاقوامی پروازیں اور تجارتی سرگرمیاں
گوادر سے مسقط کے لیے پروازیں 10 جنوری 2025 سے شروع ہوں گی۔ اس کے علاوہ چین، عمان، اور متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ ملکی و بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کیا جا سکے۔
ائیرپورٹ پر کولڈ اسٹوریج، ویئر ہاؤسز، کورئیر سروسز، کارگو شیڈز، ہوٹلز، شاپنگ مالز اور بینک برانچز کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے۔
رابطہ سڑکوں کی ترقی
نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو بہتر رسائی دینے کے لیے ایسٹ بے ایکسپریس وے کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے دیگر سڑکوں کے رابطے کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت دی۔
سیکیورٹی اور عملے کی تعیناتی
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے ایئرپورٹ کو ایروڈروم سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس، اور بارڈر ہیلتھ سروس سمیت دیگر اداروں کا عملہ تعینات کیا جا چکا ہے۔
اجلاس میں شرکت
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔
