سیلابی ریلے میں تباہی: سیر کی خوشی ماتم میں بدل گئی


’میں پاگلوں کی طرح فون ملاتا رہا، لیکن بیوی بچوں سے رابطہ نہ ہوسکا‘ — عبدالسلام کی دلخراش داستان ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے عبدالسلام کی زندگی اس وقت پل بھر میں بدل گئی جب انھیں اطلاع ملی کہ ان کے رشتہ دار دریائے سوات میں سیلابی ریلے کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس اندوہناک حادثے میں ان کی بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی شامل تھے۔ خوشیوں کا سفر، المناک انجام عبدالسلام کی اہلیہ اور بچے اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ شمالی پاکستان کی خوبصورت وادی سوات کی سیر کو روانہ ہوئے تھے۔ لیکن ان کا یہ سفر موت کا پیغام لے کر آیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق، سیلابی ریلے کی زد میں آ کر مجموعی طور پر 16 افراد پانی میں بہہ گئے۔ ان میں سے صرف تین افراد کو زندہ بچایا جا سکا، جبکہ نو افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ باقی مفقود افراد کی تلاش جاری ہے۔ ’بیٹیوں نے کہا: ابو، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں‘ عبدالسلام، جو روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں، اس وقت پاکستان میں چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے تاکہ اپنے زیرِ تعمیر گھر کے کام کی نگرانی کر سکیں۔ وہ بتاتے ہیں: ’سوات جانے سے پہلے بیٹیوں نے کہا تھا کہ ابو، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں، ہمیں بہت مزہ آئے گا۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ اگر میں بھی چلا گیا تو گھر کی تعمیر کا کام کون کرے گا۔‘ سانحے کی خبر اور بےبسی عبدالسلام کا کہنا ہے کہ انھیں کسی نے فون پر بتایا کہ ان کے ہم زلف محمد محسن کی فیملی کو حادثہ پیش آیا ہے۔ یہ سن کر انھیں فوراً احساس ہوا کہ ان کی اپنی بیوی اور بچے بھی اسی سفر میں تھے۔ ’میں نے پاگلوں کی طرح موبائل فون اٹھا کر بار بار نمبر ملانا شروع کیے لیکن کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ کچھ بہت برا ہو چکا ہے۔‘ ریسکیو آپریشن جاری سوات میں ریسکیو ٹیموں نے مقامی انتظامیہ کے تعاون سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اب تک نو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے غوطہ خوروں کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top