
امریکی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی الزائمر کی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکا کی جارجیا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود ذرات دماغ میں امائلائیڈز کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں جس سے الزائمر کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ تازہ ترین رپورٹ 224 افراد کے دماغوں کا تجزیہ کر کے تیار کی گئی جنہوں نے تحقیق کے لیے اپنے دماغ عطیہ کیے تھے۔
سائنسدانوں نے کہا کہ فضائی آلودگی میں الزائمر کی بیماری کی وجہ ابھی بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ الزائمر کی بیماری ایک لاعلاج دماغی بیماری ہے جس کا شکار افراد ہر چیز اور تعلق کو بھولنے لگتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں شوگر کی کم مقدار یادداشت میں کمی کا باعث بنتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ یادداشت کا نقصان نہ صرف انسان کے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس کی سوچنے اور بولنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مرض بڑھتا ہے، دماغ کی ساخت بدل جاتی ہے، دماغی خلیات خراب ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ موت قریب آ جاتی ہے۔
اگرچہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ الزائمر کا مرض 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بیماری 65 سال کی عمر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تین میں سے دو افراد اپنے ڈیمنشیا سے لاعلم ہیں اور اسی لاعلمی کی وجہ سے ہر سال الزائمر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔