
جاپان میں زلزلے کے پانچ دن بعد ایک 90 سالہ خاتون کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی جاپان میں یکم جنوری اور سال کے آغاز میں ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس نے نہ صرف جاپان کے ساحلی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا بلکہ سونامی کا خطرہ بھی بڑھا دیا تھا۔
یکم جنوری کے زلزلے کے متاثرین کی تعداد 161 تک پہنچ گئی۔ اس زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا حتمی تخمینہ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا ہے تاہم 200 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا اور اہلکاروں نے 90 سالہ خاتون کو بحفاظت ملبے سے نکال لیا۔
ریسکیو ٹیموں نے مبینہ طور پر ہفتے کے روز 124 گھنٹوں میں پہلی بار سوزو، ایشیکاوا پریفیکچر میں ملبے سے ایک خاتون کو نکالا۔
ڈاکٹرز کے مطابق خاتون کی صحت بہتر ہے تاہم ان کی ٹانگ میں چوٹ آئی ہے۔
مقامی حکومت کے مطابق زلزلے کے بعد اب تک 31,800 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
زلزلے کے بعد جاپان کے موسمیاتی ادارے نے ایشیکاوا، نیگاتا اور تویاما کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی تھی تاہم بعد میں اسے اٹھا لیا گیا۔