امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے سخت امیگریشن چھاپوں کی اجازت دے دی

خلاصہ

امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو دوبارہ سخت امیگریشن چھاپے مارنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد امیگریشن ایجنٹس کو جنوبی کیلیفورنیا میں نسلی بنیادوں، زبان یا ظاہری شناخت کی بنیاد پر افراد کو روکنے اور کارروائی کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔


عدالتی فیصلہ

لاس اینجلس کی ایک وفاقی عدالت نے اس سے پہلے حکم جاری کیا تھا کہ امیگریشن حکام کسی بھی فرد کو صرف اس وقت روک سکتے ہیں جب ان کے پاس “معقول شبہ” ہو کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک غیر دستخط شدہ حکم کے ذریعے یہ پابندی ختم کر دی، جس سے امیگریشن حکام کو فوری طور پر کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔

قدامت پسند ججز نے فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ نسلی شناخت ایک واحد وجہ نہیں لیکن دیگر عوامل کے ساتھ اسے مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، لبرل جج سونیا سوٹو مئیر اور ان کے ساتھیوں نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ یہ اقدام براہِ راست نسلی امتیاز کو فروغ دے گا۔


ردعمل

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے “نسلی دہشت کی طرف بڑھتا ہوا قدم” قرار دیا۔

سول رائٹس گروپس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ امیگرینٹ اور لاطینی برادری کو براہ راست نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

امیگریشن حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف خوف کی فضا قائم ہوگی بلکہ پولیس اور برادری کے درمیان اعتماد بھی ٹوٹ جائے گا۔


وسیع تر پس منظر

ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں “آپریشن مڈ وے بلیٹز” جیسی کارروائیاں اس پالیسی کی واضح مثال ہیں، جہاں ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ سرحدی سلامتی اور قانون نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top