گلگت بلتستان: لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے، قراقرم ہائی وے بند، ہزاروں سیاح اور مقامی افراد پھنس گئے
گلگت (نمائندہ خصوصی) – گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے نظام زندگی مفلوج کر دیا ہے، جس کے باعث قراقرم ہائی وے سمیت متعدد شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، اور ہزاروں مقامی افراد اور غیر ملکی سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔
حکام کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ سے قراقرم ہائی وے کو خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں اچار نالہ کے مقام پر شدید نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی مکمل طور پر بند ہو گئی۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی کہ کوہستان میں بحالی کا کام جاری ہے جبکہ جی بی کے اندرونی حصوں میں شاہراہ جزوی طور پر کھول دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل
لینڈ سلائیڈنگ کے باعث فائبر آپٹک کیبل کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں پورے گلگت بلتستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہو گئیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) نے بتایا کہ بابوسر ویلی میں فلیش فلڈز نے فائبر آپٹک کی مین لائن کو شدید متاثر کیا، جس کے بعد ہنگامی طور پر سیٹلائٹ سسٹمز استعمال کیے گئے، تاہم سروس کی رفتار بہت سست رہی۔
بابوسر پاس اور شگر میں شدید صورتحال
بابوسر پاس روڈ کئی مقامات پر بند ہو گیا، اور وہاں پھنسے ہوئے تمام سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ کئی افراد کو چلاس شہر میں پناہ دی گئی ہے جہاں ہوٹل مالکان اور سرکاری حکام نے مفت رہائش فراہم کی ہے۔
دریں اثنا، شگر میں دریا کے کٹاؤ کے باعث ہوٹو معلق پل گر گیا جس سے کے ٹو بیس کیمپ کا واحد زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔ اس سے نہ صرف 8 دیہات کا رابطہ ختم ہو گیا بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کوہ پیما اور سیاح بھی پھنس گئے ہیں۔
ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کی اپیل
گلگت بلتستان اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر سعدیہ دانش نے منوگاہ نالے میں پھنسے 40 افراد کی سلامتی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔
NDMA اور فوج کی مدد
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اور گلگت کے درمیان سی-130 پروازوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو نکالا جا سکے۔ جمعرات کو ان افراد کو مفت فضائی سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت کریں گے۔
وزیر اعلیٰ کا دورہ اور اقدامات
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے اعلان کیا ہے کہ بابوسر میں پھنسے تمام افراد کے انخلا تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے دیامر کے متاثرہ علاقوں تھاکی، نیاٹ، کھنرہ اور تھور کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ساتھ ہی، وزیر اعلیٰ نے وزیر جنگلات حاجی شاہ بیگ اور وزیر زراعت انجینئر انور کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور فوری بحالی کے اقدامات کا حکم دیا، جن میں پانی، بجلی، آبپاشی اور سڑکوں کی مرمت شامل ہے۔
نتیجہ:
گلگت بلتستان اس وقت شدید ماحولیاتی بحران کا شکار ہے جہاں قدرتی آفات کے باعث مواصلاتی نظام، سڑکیں اور بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت، فوج، رضاکار اور مقامی افراد امدادی کاموں میں مصروف ہیں، لیکن مکمل بحالی کے لیے وقت درکار ہوگا۔