
ماسکو / واشنگٹن:
روس کے مشرقی ساحل کے قریب اتوار کے روز شدید زلزلوں کا سلسلہ پیش آیا، جس کے بعد امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور روسی حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، ابتدائی طور پر 5.0 اور 6.7 شدت کے دو زلزلے ریکارڈ کیے گئے، تاہم پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 49 منٹ پر ایک طاقتور زلزلہ آیا جس کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی کہ کچھ ساحلی علاقوں میں خطرناک لہریں ممکن ہیں۔
ممکنہ سونامی خطرات
USGS کے مطابق:
روسی ساحلی علاقوں میں 30 سینٹی میٹر سے 1 میٹر (تقریباً 3.3 فٹ) اونچی لہریں متوقع ہیں۔
جاپان اور امریکی ریاست ہوائی میں 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ) سے کم اونچی لہریں آ سکتی ہیں۔
زلزلوں کا مرکز بحرالکاہل میں پیٹروپاولووسک-کامچاٹسکی شہر سے تقریباً 150 کلومیٹر مشرق میں تھا۔
آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری
ابتدائی جھٹکوں کے بعد متعدد آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک اور 6.7 شدت کا زلزلہ شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق، زلزلے کی شدت اور تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ کئی روز تک آفٹر شاکس کی زد میں رہ سکتا ہے۔
روسی حکام کی تشویش
روس کی ایمرجنسی وزارت کے مطابق:
کمانڈر آئی لینڈز میں 60 سینٹی میٹر تک اونچی لہریں متوقع ہیں۔
کامچاٹکا جزیرہ نما میں 15 سے 40 سینٹی میٹر اونچی سونامی لہریں آ سکتی ہیں۔
کامچاٹکا جزیرہ نما بحرالکاہل اور شمالی امریکا کی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، اور اسی وجہ سے یہ علاقہ زلزلوں کے لیے انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔
تاریخی تناظر
ماہرین کے مطابق 1900 سے اب تک اس خطے میں 8.3 یا اس سے زائد شدت کے 7 بڑے زلزلے آ چکے ہیں، جو اسے دنیا کے زلزلہ خیز ترین علاقوں میں شامل کرتے ہیں۔