
عرفان صدیقی: خیبرپختونخوا کو سیاسی بحران میں جھونکنے کا کوئی ارادہ نہیں
اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا (کے پی) میں عدم اعتماد کی کوئی تجویز زیر بحث نہیں اور نہ ہی ایسی کسی سیاسی چال کا ارادہ ہے جس سے صوبے میں بحران پیدا ہو۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا:
’’ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو خیبرپختونخوا کو عدم استحکام یا سیاسی بحران کی طرف لے جائے۔‘‘
عدم اعتماد کی باتیں بے بنیاد ہیں
عرفان صدیقی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ عدم اعتماد سے متعلق کوئی تجویز کسی اعلیٰ سطح پر زیر غور نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کے پی کی وزیرِاعظم سے حالیہ ملاقات کو کسی سازش سے تعبیر کرنا بھی درست نہیں۔
انہوں نے مزید کہا:
’’عدم اعتماد ایک آئینی و قانونی عمل ہے، جس کا بانی تحریک انصاف خود شکار بن چکا ہے۔‘‘
پرامن احتجاج ہر جماعت کا حق ہے
عرفان صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم اگر کسی جماعت نے احتجاج کی آڑ میں انتشار یا فساد پھیلانے کی کوشش کی تو حکومت قانونی کارروائی کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور مسلم لیگ (ن) ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جو مزید بحران کو جنم دے۔
حالیہ افواہیں اور سیاسی تناؤ
حال ہی میں میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کے پی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، عرفان صدیقی کا یہ بیان ان افواہوں کی واضح تردید ہے اور سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کی کوشش بھی۔
ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کا فوکس اس وقت گورننس، معاشی استحکام، اور ادارہ جاتی اصلاحات پر ہے، نہ کہ سیاسی چال بازیوں پر۔
ملک کو اس وقت سیاسی سنجیدگی کی ضرورت ہے
عرفان صدیقی نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ:
’’ملک کو اس وقت معاشی مسائل، داخلی سلامتی اور سیاسی تقسیم جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے وقت میں ذمے دارانہ رویہ اپنانا ناگزیر ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کی کال دے چکی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کے پی میں مزید عدم استحکام قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔