چین کا تاریخی کارنامہ: ایک ماہ میں 93 ہزار میگاواٹ کے سولر پینلز نصب


قابل تجدید توانائی میں نئی تاریخ رقم

لاہور:
چین نے ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے میدان میں ایک حیران کن سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ایک ماہ میں 93 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سولر پینلز نصب کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
یہ کارنامہ مئی 2025 میں انجام پایا اور اس رفتار سے ہر ایک سیکنڈ میں 100 سولر پینل نصب کیے گئے، جو اپنی نوعیت کا ایک عالمی ریکارڈ ہے۔


پوری دنیا کے لیے سبق: سستی، صاف اور پائیدار توانائی کی طرف قدم

چین کی اس ترقی کی رپورٹ ایشیا سوسائٹی نامی معروف امریکی تحقیقی ادارے نے جاری کی ہے جس کے مطابق:

93 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی = پولینڈ کی کل بجلی پیداوار کے برابر

چین کا موجودہ سولر پاور آؤٹ پٹ = پاکستان کے کل نیشنل گرڈ (49,000 میگاواٹ) سے تقریباً دوگنا

ونڈ پاور کی تنصیب: 5,300 نئی ٹربائنز جو 26,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرتی ہیں


2025 کے ابتدائی 5 ماہ: چین کا توانائی انقلاب

رپورٹ کے مطابق صرف جنوری سے مئی 2025 کے دوران:

198,000 میگاواٹ (198 گیگاواٹ) سولر توانائی نصب کی گئی

46,000 میگاواٹ ونڈ انرجی بھی شامل کی گئی

یہ مقدار انڈونیشیا یا ترکی کی کل بجلی کی پیداوار کے برابر ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ چین اب قابل تجدید توانائی میں دنیا کا لیڈر بن چکا ہے۔


ایک ہزار گیگاواٹ سے زائد شمسی بجلی: چین کا عالمی غلبہ

فی الحال چین:

سالانہ ایک ہزار گیگاواٹ سے زائد صرف شمسی توانائی سے بجلی بنا رہا ہے

عالمی شمسی توانائی کے کل 50 فیصد سے زائد بجلی صرف چین میں پیدا کی جا رہی ہے


چین: دنیا کی توانائی معیشت کا رہنما

چین نہ صرف بجلی بنا رہا ہے بلکہ:

دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل بنانے والا ملک ہے

ونڈ ٹربائنز کی تیاری میں بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے

یہ ساری پیش رفت ماحول دوست توانائی کے فروغ، روزگار کے مواقع، اور عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک زبردست حکمتِ عملی کی علامت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top