پاکستان کے مرکزی بینک کی پیش گوئی: مالی سال 2026 میں 4.25 فیصد شرح نمو، تجارتی خسارے کے خدشات برقرار

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مالی سال 2026 کے لیے 4.25 فیصد تک جی ڈی پی کی شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی معیشت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی معاونت سے کی جانے والی اصلاحات کے نتیجے میں آہستہ آہستہ سنبھل رہی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی درآمدی طلب کی وجہ سے تجارتی خسارہ وسیع ہونے کا امکان ہے۔

معاشی امکانات

سالانہ اقتصادی جائزے کے مطابق، متوقع ترقی کی بنیادی وجوہات میں زرعی شعبے کی بحالی، صنعتی پیداوار میں اضافہ اور سروس سیکٹر کی مضبوطی شامل ہیں۔ حکومت نے مالیاتی خسارے پر قابو پانے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، جس سے ایک مستحکم معاشی ماحول پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی رقوم (Remittances) اور بین الاقوامی اداروں کی مالی معاونت ملک کے توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دسمبر 2025 کے اختتام تک پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تقریباً 15.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو معیشت کے لیے اعتماد کا باعث ہے۔

مہنگائی اور مالیاتی پالیسی

گذشتہ برسوں میں دو ہندسوں تک پہنچنے والی مہنگائی اب بتدریج قابو میں آ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے موجودہ پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔

تجارتی خسارے کے خدشات

اگرچہ برآمدات میں معمولی اضافہ متوقع ہے، لیکن مشینری، تیل اور خام مال کی درآمدات کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے تجارتی خسارہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کو متنوع نہ بنایا گیا تو بڑھتا ہوا خسارہ مستقبل میں معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین نے اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کو مثبت قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ پائیداری کا انحصار اصلاحات پر ہے۔ ایک ماہر نے کہا:
“شرح نمو اگر برآمدات میں اضافے کے بغیر بڑھی تو بیرونی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو ترجیح دے اور درآمدی انحصار کم کرے۔”

خلاصہ

مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی ایک محتاط امید کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ 4.25 فیصد شرح نمو ممکن ہے، مگر یہ کامیابی حکومت کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ تجارتی خسارے کو کس طرح قابو میں لاتی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کو کس حد تک مستقل بنا پاتی ہے۔


Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top