
عالمی عدالت انصاف کے اجلاس سے قبل غزہ پر قبضے کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کا لب و لہجہ بدل گیا ہے۔
جنوبی افریقہ نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی پر بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں جنوبی افریقہ کی درخواست پر سماعت 11 اور 12 جنوری کو ہوگی۔ )۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے عالمی عدالت انصاف میں سماعت سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ان کا غزہ پر مستقل قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ان کا ہدف حماس کو غزہ سے بے دخل کرنا اور اسرائیلی شہریوں کو واپس لانا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقاصد کے حصول کےبعد غزہ سےفوج نکال سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے خواہاں ہونے کے بجائے بہادر اور ضدی سمجھے جاتے ہیں۔
گزشتہ ماہ ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج کے پاس لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور حماس کے خاتمے تک لڑائی پوری طاقت سے جاری رہے گی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر بھی یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا، جنگ کے بعد غزہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، یہ جنگ یحییٰ السنوار کے قتل کے ساتھ ختم ہو جائے گی، اور یہ کہ اسرائیلی افواج جنگ بندی کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھال لیں گی۔