
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی) کی کارپوریٹ کرائم برانچ نے معروف پاکستانی گلوکار استاد راحت فتح علی خان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرادی۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گلوکار راحت فتح علی خان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور وہ کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔
اینٹی کارپوریٹ کرائم سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے گلوکار راحت فتح علی خان کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر کو پیش کردی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات بیرون ملک سفر کرنے والے مختلف مسافروں کی جانب سے منی لانڈرنگ کی شکایات کے بعد شروع کی گئیں۔ اس حوالے سے لاہور ایئرپورٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن علامہ اقبال نے 182 مسافروں کی تفصیلات فراہم کیں۔
ایئرپورٹ کے مطابق راحت فتح کا نام بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں میں شامل تھا تاہم ان کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ کے مطابق راحت فتح علی خان ایک مشہور گلوکار ہیں جو اکثر بیرون ملک جاتے رہتے ہیں۔