
13 ویں پختون خوا اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران تحریک انصاف گیلری کے کارکنوں سے بدتمیزی کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا۔
سپیکر اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر گیلری سے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ن لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد پر چپلیں، لوٹ مار اور دیگر اشیاء پھینکیں اور نازیبا کلمات کہے جب کہ سابق سپیکر مشتاق احمد غنی کارکنوں کی طرف دیکھتے رہے۔
اجلاس کے دوسرے روز ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے دوران کارکنوں نے گیلری سے یہی عمل دہرایا تو ایک خاتون رکن اسمبلی نے علی امین گنڈا پور سے شکایت کی، علی امین نے کارکنوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔
اجلاس کے تیسرے روز علی امین گنڈا پور کی تقریر کے بعد چیئرمین ایوان صدر ڈاکٹر حکومتی اپوزیشن کی طرف سے عباد اللہ نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پارلیمنٹ علی امین گنڈا پور اور اس استعمال کا ذکر کرتے ہوئے تحریک انصاف پارٹی کا دورہ کیا۔ عہدیداروں نے عوامی گیلری میں اپنا آشیرواد پیش کیا۔ وہ گانے لگے۔
نو منتخب سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کارکنوں کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اپنا احتجاج ختم نہ کیا تو انہیں گیلری سے باہر نکال دیا جائے گا۔
بعد ازاں خیبرپختونخوا کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔